ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / جنین کشی:ایمس کےمطالعہ میں دہلی کاتاریک پہلوبےنقاب 

جنین کشی:ایمس کےمطالعہ میں دہلی کاتاریک پہلوبےنقاب 

Wed, 17 Aug 2016 19:22:53    S.O. News Service

نئی دہلی، 17؍اگست؍(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ایمس نے 1996سے 2012کے درمیان پاش جنوبی دہلی میں 238مردہ نوزائیدہ بچوں اور جنینوں کی میڈیکل قانونی پوسٹ مارٹم رپورٹوں کا مطالعہ کیا ہے جس کے نتائج قومی دارالحکومت میں اس دوران ہوئی جنین کشی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ایمس کے اس حالیہ مطالعہ میں کہا گیا ہے کہ ان 17سالوں میں تقریبا 35فیصد کیس مردہ پیدا ہوئے بچے، 29فیصد کیس زندہ پیدا ہوئے بچے اور 36فیصد کیس وقت سے پہلے پیدا ہوئے بچوں کے ہیں۔مطالعہ میں کہا گیا ہے کہ زندہ پیدا ہوئے زیادہ تر بچوں کو ماردیا گیا تھا یا تو سڑک کنارے چھوڑ دیا گیا تھا۔شریک مصنفین میں شامل ڈاکٹر سی بیہرا نے بتایا کہ کل معاملوں کے تناظر میں لڑکوں کی تعداد زیادہ ہے لیکن قریب سے مطالعہ کرنے پر پتہ چلا کہ پانچ ماہ(20ہفتے )کی جنین کشی کے معاملے میں لڑکیوں کی تعداد لڑکوں سے زیادہ ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمارے مرد سرپرست سماج کے پیش نظر اس کا یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ اس دوران منتخب جنین کشی ہوئی ہو۔ہندوستان میں حمل کے 20ہفتوں تک ہی ڈاکٹر اسقاط حمل کی اجازت دیتے ہیں اورمجرمانہ اسقاط حمل اور منتخب جنین کشی کئے جانے کا خدشہ حمل کے 20ہفتوں کے اندر زیادہ ہوتا ہے۔برطانیہ کے میڈیکو-لیگل جرنل کے تازہ شمارے میں شائع اس مطالعہ میں دعوی کیا گیا ہے کہ ہندوستان میں پہلی بار اس قسم کا مطالعہ کیا گیا ہے جس میں جنوبی دہلی میں 17سالوں میں مردہ نوزائیدہ بچوں اور چھوڑے گئے جنینوں کے ان معاملات کی بات کی گئی ہے جن کے بارے میں فارنسک سطح پر معلومات ہے۔مطالعہ میں کہا گیا ہے کہ زندہ پیدا ہوئے بچوں کے معاملات میں زیادہ تر(77فیصد)کی موت کا سبب قتل تھی جبکہ 19فیصد کی موت قدرتی وجوہات اور ایک فیصد کی موت حادثاتی ہوئی۔


Share: